University of Sindh - Official Website
Allama I.I. Kazi Campus Jamshoro

جامعہ سندھ اور اس کے چار کیمپسز میں ماسٹرڈگری پروگرامز 2018ء میں داخلے کے لیے ٹیسٹ

جامعہ سندھ جامشورو اور اس کے لاڑکانہ، میرپورخاص، دادو اور ٹھٹھہ کیمپس میں تعلیمی سال 2018ءکے تحت ماسٹر ڈگری پروگرامز میں داخلے کے لیے پری انٹری ٹیسٹ منعقد کی گئی، جس میں 874 طالبات سمیت مجموعی طور پر 2522امیدواروں نے شرکت کی۔ سندھ یونیورسٹی ٹیسٹنگ سینٹر کی جانب سے جامشورو میں علامہ آئی آئی قاضی کیمپس میں واقع آرٹس فیکلٹی بلڈنگ، انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز اور انسٹیٹیوٹ آف انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر میں انٹری ٹیسٹ کا اہتمام کیا گیا، جس میں 842 عورت اور 1513 مرد امیدواروں نے اپنے پسندیدہ مضمون میں داخلے کے لیے قسمت آزمائی، جبکہ 66 امیدوار غیر حاضر رہے۔ اسی طرح سندھ یونیورسٹی لاڑکانہ کیمپس میں 17 فیمیل اور 44 میل امیدواروں نے ٹیسٹ دیا، جبکہ 4 غیر حاضر رہے۔ سندھ یونیورسٹی میرپورخاص کیمپس میں 5 فیمیل امیدواروں سمیت 17 امیدواروں نے داخلے کے اپنے ذہانت کا استعمال کیا۔ جبکہ امیدوار غیر حاضر رہا۔ دادو کیمپس میں 6 فیمیل امیدواروں سمیت 53 امیدواروں نے داخلے کے لیے مشروط امتحان میں حصہ لیا، جبکہ 3 امیدوار غیر حاضر رہے۔ ٹھٹھہ کیمپس میں 4 فیمیل اور 18 میل امیدواروں نے ٹیسٹ دیا، جبکہ ایک امیدوار غیر حاضر رہا۔ جامعہ سندھ کے مین کیمپس پر ٹیسٹ اپنے مقررہ وقت پر صبح 10 بجے شروع ہوئی۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد برفت نے امتحانی مراکز کا دورہ کیا اور انٹری ٹیسٹ پرامن طریقے سے ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دوسری جانب انٹری ٹیسٹ سے قبل وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد برفت نے حیدرآباد، کوٹری و جامشورو سے آئے ہوئے صحافیوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر برفت نے صحافیوں کو جامعہ کے خوشگوار ماحول داخلا کی نشستوں اور داخلے کے لیے فارم بھرنے والے امیدواروں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ سندھ ملک کی قدیم اور بڑی سرکاری جامعہ ہے، جس میں طلباءکو بھرپور تعلیمی و تحقیقی مواقع میسر کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبات کے لیے جامعہ کا ماحول انتہائی خوشگوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین زیادہ سے زیادہ کوشش کریں کہ ان کی بچیاں یونیورسٹیز میں پہنچیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنے خاندان، ملک و قوم کی خدمت کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔ جبکہ معیاری تعلیم سے ہی معاشرے میں موجود فرسودہ رسومات کا خاتمہ لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین بچوں کو پڑھائیں تاکہ صحتمند معاشرے کی تعمیر کا جا سکے۔ وائس چانسلر کے ساتھ رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم چانڈیو، مختلف فیکلٹیز کے ڈین صاحبان، انتظامی و تدریسی شعبہ جات کے سربراہان، ڈائریکٹر ایڈمیشنز عبدالمجید پنہور، ڈاکٹر غلام علی برڑو، ڈاکٹر امیر علی ابڑو، ڈاکٹر غلام اکبر مہیسر و دیگر بھی موجود تھے۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایڈمیشنز کی جانب سے امیدواروں کی سہولت کے لیے علامہ آئی آئی قاضی جامع مسجد اور امتحانی مراکز پر ہیلپ ڈیسکس بھی قائم کی گئی تھیں۔ جبکہ جامعہ سندھ کی منی ہاسپیٹل کی جانب سے امیدواروں کو ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر طبی کیمپس بھی قائم کیے گئے تھے اور ایمبولنسز کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا گیا تھا۔ ٹیسٹ کے اختتام پر طلباءاور ان کے والدین نے جامعہ سندھ کی انتظامیہ کی جانب سے ٹیسٹ کے سلسلے میں کیے گئے انتظامات کو سراہتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔ سندھ یونیورسٹی ٹیسٹنگ سینٹر کی جانب سے ٹیسٹ کا نتیجہ اسی دین رات 9 بجے تک جامعہ سندھ کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری کردیا جائے گا۔دوسری جانب مختلف کیمپسز میں انٹری ٹیسٹ کے دوران متعلقہ پی وی سیز موجود تھے۔